اسلام آباد : سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے ذاتی حیثیت میں پیش ہونےکا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر فیصل واوڈاکی پریس کانفرنس پرازخودنوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس عرفان سعادت خان اورجسٹس نعیم اخترافغان بینچ میں شامل ہیں۔
چیف جسٹس نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی چلائی توکیس میں استغاثہ کون ہوگا، استغاثہ اٹارنی جنرل ہوں گے۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ اب وزن آپ کے کندھوں پر ہے ، کیا شوز کاز نوٹس ہونا چاہیے یا صرف نوٹس ہونا چاہیے، ملک کا ہر شہری عدلیہ کا حصہ ہے۔
جرمنی میں ہٹلر گزرا ہے وہاں آج تک کوئی رو نہیں رہا، غلطیاں ہوئیں انہیں تسلیم کر کے آگے بڑھیں، اسکول میں بچے غطی تسلیم کرے تو استاد کارویہ بدل جاتا ہے۔
فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو نوٹس جاری کرتے ہیں، دونوں کو بلا لیتے ہیں ہمارے منہ پر آکر تنقید کر لیں۔
سپریم کورٹ نے آج کی کارروائی کا حکمنامہ لکھوانا شروع کیا اور فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو طلب کر لیا۔